وزیراعظم نواز شریف نے ملک کے مختلف شہروں میں سحری کے اوقات کے دوران بجلی کی لوڈشیڈنگ پرشدید برہمی کااظہار کرتے ہوئے اس کا نوٹس لے لیا
وزیراعظم نوازشریف نے رمضان المبارک کی پہلی سحری کے دوران مختلف شہروں میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کا نوٹس لیتے ہوئے وزارت پانی و بجلی پر شدید برہمی کا اظہارکیا۔ وزیراعظم نے سحری اورافطار کے دوران لوڈشیڈنگ نہ کرنے اورشکایات کے ازالے کی ہدایت کی ہے جب کہ وزیراعظم نے سحری کے دوران لوڈشیڈنگ پر وزارت پانی و بجلی سے جواب بھی طلب کرلیا ہے۔
وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے سحر اور افطار میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے کی ہدایت کے باوجود ملک بھر کے شہری و دیہی علاقوں میں بدترین لوڈشیڈنگ کی گئی، کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور اسلام آباد سمیت دیگر شہروں میں بھی سحر و افطار کےدوران بجلی کی آنکھ مچولی جاری رہی جس کے باعث عوام کو شدید گرمی میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔
بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ کے باعث عوام سحرو افطار اندھیرے میں کرنے پر مجبور رہے جب کہ کراچی سمیت دیگر شہروں میں بجلی کی بندش کےخلاف احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے۔ کراچی میں کے الیکٹرک کی جانب سے لوڈشیڈنگ نہ کرنے کے دعوے کھوکھلے نکلے اور شہر کے بیشتر علاقوں میں کئی کئی گھنٹے بجلی غائب رہی، کریم آباد، گلشن اقبال، گلستان جوہر اور ملیر سمیت متعدد علاقوں میں کئی گھنٹے بجلی کی فراہمی معطل رہی۔
دوسری جانب وزارت پانی وبجلی کا کہنا ہےکہ شہری علاقوں میں سحرو افطار کےدوران لوڈشیڈنگ نہیں کی گئی۔ وزارت پانی و بجلی کے حکام کا کہنا تھا کہ 75 فیصد دیہی علاقو میں بھی لوڈشیڈنگ نہیں ہوئی جب کہ صرف ان علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل رہی جہاں فنی خرابی تھی۔

No comments:
Post a Comment