وہ13 اگست 1975 ء کو پاک سرزمین کے شہر راولپنڈی میں پیدا ہوا تھا ۔
کسی کو کیا پتہ تھا کہ وہ کبھی ایسا کام
بھی کرے گا کہ رہتی دُنیا تک لوگ اُس کو یاد رکھیں گئے۔ جب وہ کرکٹ کے میدانوں میں
آیا تو بہت بڑ ے بڑے نام کرکٹ کی دُنیا میں راج کررہے تھے ۔پھر وقت کہ ساتھ ساتھ
وہ دن بھی اُسکی زندگی میں آئے کہ بہت بڑے بڑے نام اُس کو کا سامنا کرتے ہوئے کانپنے لگے تھے، کیا سچن ٹنڈولکر، کیا دیوار کی
مانند کھڑے رہنے والا راہول ڈریوڈ، سب اُس
کے سامنے بے بس ہو جاتے ، حتٰی کہ ایک دن وہ بھی آیا کہ اُس نے گنگولی جیسے منجھے
ہوئے بلے باز کی پسلیاں تک توڑ ڈالیں ،
برائن لارا جیسے بڑے
کھلاڑی کو زمین پر گرا ڈالا،انگلش بلے باز کرسٹن کا چہرہ لہو لہان کر دیا،
رکی پونٹنگ جیسے بڑے نام کو پریشان کر دیا۔ جس نے کروڑوں پاکستانیوں کے چہروں پر
اپنے کام سے مسکراہٹیں بکھیریں تھیں جس نے بہت سارے مشکل وقت میں پاکستان کو جیت
سے ہمکنار کیا تھا ۔ پھر ایک وقت آیا کہ
اُس نے دُنیا کا سب سے تیز ترین گیند باز ہونے گا اعزاز اپنے نام کر لیا اور ایسا
کیا کہ آج تک وہ اعزاز اُسی کے نام سے منسلک ہے جس نے اپنے ملک کیلئے بہت خدمت
کی مگر جب وہ کرکٹ کے میدان سے جانے لگا تو اُس کی کوئی عزت
نہیں تھی یہ عوام اپنے اُس ہیرو کی خدمت کو بھول کر آفریدی آفریدی کے گن گارہی تھی
جو بھول چکی تھی کہ شعیب اختر نے بھی
پاکستان کے لئے بہت کام کیا ہے مگر یہ کہ
ہم اپنے قومی ہیرو کو ورلڈ کپ 2011 کے سارے میچ کھلا کر اُس کو اچھے طریقے سے رخصت
کرتے مگر افسوس ہم نے وہی ثبوت دیا جو ہم
ہمیشہ سے دیتے آئے ہیں ، ہم نے اپنے قومی ہیرو کو ورلڈ کپ کے میچوں سے باہر بیٹھا
کر اُس کو دُنیا کے سامنے زلیل کر دیا ہم
نے اُس کا ایسا دل دکھایا کہ وہ ہم سے روٹھ گیا
ہم نے اپنے اُس شیر کی قدر نہیں کی ، تبھی ہمیں اُس کے بعد آج تک اُس جیسا
کوئی نہیں ملا، ہم نے اُس کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے اُس کی حاصلکردہ 100
وکٹوں کو ایک ویڈیو میں قید کرکے آپ کے
سامنے پیش کرنے کی کوشش کی ہے جو کہ نیچے لنک میں موجود ہے ۔کہ کاش ہمیں اُس کی
قدر ہو ۔ ہم دُعا کرتےہیں کہ اللہ عزوجل ہمارے اُس قومی ہیرو شعیب اختر کا حامی و ناصر ہو ، اور ہم جیسے بے
قدروں کو اچھی ہدایت عطا
فرمائے،امین
ویڈیو دیکھنے کیلئے یہاں کلک کریں


No comments:
Post a Comment