loading...

Tuesday, 23 June 2015

دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہوتا کھیل

ایک زمانے میں ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال بغیر پائلٹ کے اڑنے والے جنگی اور جاسوس طیاروں تک محدود تھا تاہم اب ڈرون ریسنگ دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہوتا کھیل ہے۔ قوانین کے مطابق ڈرونز کو پرہجوم مقامات پر 400 فٹ سے کم کی بلندی پر نہیں اڑایا جا سکتا۔

 بغیر پائلٹ کے اڑنے والے جنگی اور جاسوس طیاروں کی ٹیکنالوجی اب عوامی حدود میں داخل ہو گئی ہے اور تو اور اب ’ڈرون ریسنگ‘ بھی شروع ہو گئی ہے۔ڈرون ریسنگ نے حال ہی میں آسٹریلیا میں جنم لیا ہے اور یہ کھیل تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ ڈرون ریسنگ کا باقاعدہ انعقاد ہونے لگا ہے جس میں حصہ لینے والوں کی تعداد ہر بار پہلے سے زیادہ ہوتی ہے۔ان مقابلوں کے لئے باقاعدہ کوئی جگہ مختص نہیں ہوتی۔ ڈرون ریسنگ کے متوالے اپنے طیاروں کے ساتھ متروک گوداموں، زرعی فارموں اور مضافاتی علاقوں میں موجود کھنڈرات کا رخ کرتے ہیں۔ ان کی آمد جنگل میں منگل کا سماں پیدا کر دیتی ہے۔ قوانین کے مطابق ڈرونز کو پرہجوم مقامات پر 400 فٹ سے کم کی بلندی پر نہیں اڑایا جا سکتا۔ 

No comments:

Post a Comment

loading...